افریقی ثقافت کو قریب سے جاننے کا خواب رکھنے والوں کے لیے کوٹ دیووار کا روایتی گاؤں ایک نایاب موقع ہے۔ حالیہ برسوں میں مغربی افریقہ کی سیاحت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر ان مقامات کی طرف جہاں روایتی طرزِ زندگی اب بھی قائم ہے۔ ان گاؤں کی اہمیت نہ صرف سیاحتی معیشت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے بلکہ مقامی ثقافت کی بقاء کے لیے بھی معاون ہے۔ جدیدیت اور ثقافتی تحفظ کے بیچ توازن قائم کرنے کی کوشش میں، حکومت نے متعدد دیہی ثقافتی گاؤں کو محفوظ مقام قرار دیا ہے۔ ایسے ماحول میں، یہ سفر نہ صرف ایک بصری تجربہ ہوتا ہے بلکہ ایک جذباتی اور فکری سفر بھی بن جاتا ہے۔ کوٹ دیووار کے دیہی گاؤں کی یہ سیر، یقینا آپ کو بھی افریقی روح کی گہرائیوں تک لے جائے گی۔
گاؤں کا پہلا تاثر اور مہمان نوازی کا جذبہ
گاؤں میں قدم رکھتے ہی وہ خوشبو جو مٹی اور درختوں سے آتی ہے، دل کو ایک عجیب سکون دیتی ہے۔ یہاں کے لوگ مسکراہٹوں کے ساتھ استقبال کرتے ہیں، ان کی آنکھوں میں وہ چمک ہوتی ہے جو خلوص سے بھری ہوتی ہے۔ مرد و خواتین روایتی لباس میں ملبوس ہوتے ہیں اور مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے مقامی موسیقی کے ساتھ ناچتے گاتے نظر آتے ہیں۔ ہر فرد آپ سے بات چیت کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے اور اپنے گاؤں کے بارے میں فخر سے بتاتا ہے۔ یہاں آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو اور آپ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئے ہوں۔ ان کی سادگی اور خلوص ایک ایسا تجربہ ہے جو کہیں اور شاید ہی ملے۔
مقامی فن تعمیر اور گھروں کی خاصیت
گاؤں کے مکانات مٹی، بانس اور تنکوں سے بنے ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک فن تعمیر کا شاہکار معلوم ہوتا ہے۔ یہ گھر نہ صرف گرمی کے مقابلے میں ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں بلکہ ماحول دوست بھی ہوتے ہیں۔ چھتیں مخروطی شکل میں ہوتی ہیں جو بارش کو آسانی سے بہا دیتی ہیں۔ گاؤں میں ایک مرکز ہوتا ہے جہاں سب لوگ اکٹھے ہوتے ہیں، یہ کمیونٹی سینٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے اطراف میں مختلف قبائل کے افراد کے گھر ہوتے ہیں، اور ہر قبیلے کا فن تعمیر ذرا سا مختلف ہوتا ہے۔ دیواروں پر بنے ہاتھ سے بنے ہوئے نقش و نگار گہرے معنی رکھتے ہیں اور بزرگ ان کے مطلب بیان کرتے ہیں۔ ان سب سے گزر کر آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف گھر نہیں، بلکہ ایک تاریخ کا تسلسل ہیں۔
افریقی فن تعمیر کے بارے میں مزید جانیں
روایتی رسومات اور قبائلی تقاریب
گاؤں کی سب سے متاثر کن چیز ان کی روایتی رسومات اور تقاریب ہوتی ہیں۔ ہر قبیلہ اپنے مخصوص انداز میں تقاریب مناتا ہے۔ میں نے ایک شادی کی تقریب دیکھی جہاں دولہا دلہن کو مقامی گیتوں اور رقص کے ساتھ پیش کیا گیا۔ موسیقی میں استعمال ہونے والے آلات جیسے ڈرمز، بانسری اور کلیپرز ہاتھ سے بنے ہوتے ہیں اور ان کی آواز دل کو چھو لیتی ہے۔ ایک اور دلچسپ بات یہ تھی کہ ہر رسم کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے، جو بزرگ نسل در نسل سناتے آئے ہیں۔ اس گاؤں میں ہر قدم پر ایک نئی کہانی، ایک نیا جذبہ ملتا ہے۔
مقامی خوراک کا ذائقہ اور دسترخوان کا تجربہ
خوراک کے معاملے میں یہ گاؤں کسی بھی جدید ریستوران سے کم نہیں۔ یہاں کے کھانے مکمل طور پر مقامی اجزاء سے تیار کیے جاتے ہیں۔ کیساوا، یام، پالم آئل اور مقامی مچھلیاں عام اجزاء میں شامل ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ پسند آنے والا پکوان “آلاکو” تھا، جو پکے ہوئے کیلے کو تیل میں تل کر بنایا جاتا ہے۔ کھانے کے دوران ہر کسی کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھنے کی روایت ہے، جہاں سب ایک ساتھ کھاتے ہیں اور کہانیاں شیئر کرتے ہیں۔ یہ وہ لمحے تھے جب میں نے محسوس کیا کہ کھانے کا اصل مزہ تب آتا ہے جب وہ خلوص اور محبت کے ساتھ پیش کیا جائے۔
بچوں کی معصومیت اور مقامی تعلیم کا نظام
بچوں سے ملاقات میرے اس سفر کا سب سے خوبصورت حصہ تھا۔ ان کی آنکھوں میں چمک، ہنسی میں مٹھاس، اور شرارتوں میں خالص پن تھا۔ مقامی اسکول چھوٹے مگر علم سے بھرپور تھے۔ اساتذہ نہایت شفیق اور محنتی تھے، جو بچوں کو نہ صرف روایتی تعلیم دیتے ہیں بلکہ قبائلی تاریخ اور اقدار سے بھی روشناس کراتے ہیں۔ اسکول کے باہر کھیلنے والے بچوں کی کھیلیں مقامی انداز میں ہوتی ہیں، جن سے نہ صرف جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ ٹیم ورک اور اجتماعی سوچ بھی فروغ پاتی ہے۔ بچوں کی سادگی اور تعلیم کے لیے ان کا جوش واقعی قابلِ تعریف تھا۔
دل کو چھو لینے والا الوداع اور یادگار لمحات
جب وقت رخصت آیا تو گاؤں والوں نے ایک الوداعی تقریب کا انعقاد کیا۔ سب نے مقامی گیت گائے، تحائف دیے اور آنکھوں میں نمی کے ساتھ رخصت کیا۔ یہ لمحہ میرے دل میں ہمیشہ نقش رہے گا۔ وہ رقص، وہ ہنسی، وہ کہانیاں، وہ خلوص—سب کچھ میری یادوں میں بس چکا ہے۔ سفر ختم ہوا، مگر دل میں ایک نئی دنیا آباد ہو گئی۔ اگر آپ بھی کبھی افریقی ثقافت کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں تو کوٹ دیووار کا یہ دیہی گاؤں ضرور دیکھیں، کیونکہ یہ صرف ایک سفر نہیں، بلکہ ایک مکمل تجربہ ہے جو زندگی بھر یاد رہتا ہے۔
کوٹ دیووار کے دیہی گاؤں کا نقشہ دیکھیں
ٹیگز
سفرنامہ, کوٹ دیووار, افریقی ثقافت, دیہی گاؤں, مقامی خوراک, قبائلی رسوم, روایتی فن تعمیر,
*Capturing unauthorized images is prohibited*